سلام اوارڈ فار امیجینیٹو فکشن Salam Award for imaginative fiction افسانہ نگاری کا ایک پرجوش مقابلہ ہے جس کا عین مقصد پاکستان میں سائینس فکشن (science fiction) اور اس کے جیسے اسپیکیولیٹو فکشن کے دیگر اور اصناف کو بڑھاوا دینا ہے۔ اس اوارڈ کا نام ڈاکٹر عبد اسلام اور ان کے کام کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لئے ان پر مشتمل کیا گیا ہے۔
سلام اوارڈ پچھلے کئی سالوں سے پاکستان میں سائنس فکشن (science fiction)
، فانتسی( Fantasy ) اور اس سے ملتے جھلتے دیگر ایمیجینیٹو فکشن(imaginative fiction) کی تحریر میں بڑھوتری کے لئے کام کر رہا ہے۔ حالانکہ ابتدائی ہی سے یہ مقابلہ انگریزی میں لکھی گئی کہانیوں پر مشتمل رہا ہے، ہماری ٹیم کافی عرصے سے اس اوارڈ کو پاکستان کی دیگر مقامی زبانوں میں مقرر کرنے کا خواب بن رہی ہے۔ اس خواب کی تعبیر اور پہلی بنیاد ہم اس سال(Salam Award for Urdu Imaginative Fiction ) سلام اوارڈ فار اردو ایمیجینیٹو فکشن سے رکھ رہے ہیں ۔
سلام اوارڈ اور اس کی تاریخ کے متعلق زیادہ جاننے کے لئے ہماری ویب سائٹ سے رجوع کریں
salamawards.co

زینت حسام مترجم کی حیثیت سے اپنی ایک پہچان رکھتی ہیں۔ انھوں نے گابریئل گارسیا مارکیز کے شہرت یافتہ ناول ’ تنہائی کے سو سال‘، اتالو کالوینو کی منفرد تخلیق ’نادیدہ شہر‘ کے علاوہ یوسف ادریس، ابرہام یہوشوا، کیم مونزو، دانیال الارکون، اور ڈونلڈ بارتھیم کی کہانیوں کے تراجم کیے ہیں۔ حسام نے شمالی امریکہ کی بیس (۲۰) خواتین شعراء کی اٹھاسی (۸۸) نظموں کے انتخاب کا ترجمہ کیا ہے جو اس سال ’تمناؤں کے دیار سے‘ کے عنوان سے شائع ہوا ہے۔ اس سے پہلے انھوں نے بلگاریا کے شاعر لوبومیر لیوچیف کی نو نظموں کے تراجم کیے جو ایک جریدے میں شائع ہو چکے ہیں۔ امریکی شاعر لینگسٹن ہیوز کی نظموں کا ترجمہ بھی زینت کر چکی ہیں۔ ان دنوں ان کا اطالوی مصنفہ ایلینا فیرانتے کے ناول ’میری ذہین دوست‘ کا ترجمہ زیر طباعت ہے۔ زینت حسام نے ابتدائی سالوں میں بحیثیت صحافی کام کیا۔ وہ گذشتہ دس سالوں سے بطور آزاد محقق سماجی مسائل پر لکھ رہی ہیں۔ وہ کراچی میں مقیم ہیں۔

ڈاکٹر اُسامہ صدیق ایک قانون دان اور ماہرِ پالیسی اُمور ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ایک ناول نویس بھی ہیں اور اُردو اور انگریزی میں ایک ایک ناول لکھ چکے ہیں — "غروبِ شہر کا وقت"اور "سنفنگ آئوٹ دی مون." عنقریب اُن کا تیسرا ناول "وہو کنوس دی بائونڈس آف ڈسائر" منظرِ عام پہ آنے والا ہے۔

ناعمہ رشید ایک مصنفہ، شاعرہ اور مترجم ہیں جن کا ادبی کام چار زبانوں اُردُو، پنجابی، فرانسیسی اور انگریزی پر مشتمل ہے۔ ان کی تحریروں کو نیشنل پوئٹری کمپی ٹیشن اور بیسٹ اسمال فکشنزکے لیے نامزد (لانگ لسٹ) کیا جا چکاہے۔ ان کے شائع شدہ تراجم میں علی اکبر ناطق کا ناول "نولکھی کوٹھی" (پنگوئن انڈیا ، ۲۰۲۳ء) اور پروین شاکر کا منتخب کلام "ڈیفائنس آف دی روز " (آکسفورڈ یونی ورسٹی پریس، ۲۰۱۹ء) شامل ہیں۔ ناعمہ رشید ایک فرانسیسی کتاب "شیکین" ( لے فیوجیٹو ، ۲۰۲۳ء) پر بحیثیت شراکتی مترجم بھی کام کر چکی ہیں۔ اُن کا کام وائلڈ کورٹ، پوئٹری برمنگھم، دی اسکورز اور اے سمپٹوٹ سمیت کئی معروف بین الاقوامی ادبی رسائل و جرائد میں شائع ہوچکا ہے۔ حالیہ طور پروہ اپنے افسانوں کے مجموعے اور ناول پر کام کر رہی ہیں۔
شرکاء سے گزارش کے اپنی کہانی بھیجنے سے پہلے یہ تصدیق کر لیں کہ اُن کی فائیل صحیح طرح سے فارمیٹ کی گئی ہے۔ فارمیٹ کی پیروی نہ کرنے کی صورت میں آپ کی کہانی مسترد کی جا سکتی ہے۔