سلام اوارڈ فار امیجینیٹو فکشن Salam Award for imaginative fiction افسانہ نگاری کا ایک پرجوش مقابلہ ہے جس کا عین مقصد پاکستان میں سائینس فکشن (science fiction) اور اس کے جیسے اسپیکیولیٹو فکشن کے دیگر اور اصناف کو بڑھاوا دینا ہے۔ اس اوارڈ کا نام ڈاکٹر عبد اسلام اور ان کے کام کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لئے ان پر مشتمل کیا گیا ہے۔
سلام اوارڈ پچھلے کئی سالوں سے پاکستان میں سائنس فکشن (science fiction)
، فانتسی( Fantasy ) اور اس سے ملتے جھلتے دیگر ایمیجینیٹو فکشن(imaginative fiction) کی تحریر میں بڑھوتری کے لئے کام کر رہا ہے۔ حالانکہ ابتدائی ہی سے یہ مقابلہ انگریزی میں لکھی گئی کہانیوں پر مشتمل رہا ہے، ہماری ٹیم کافی عرصے سے اس اوارڈ کو پاکستان کی دیگر مقامی زبانوں میں مقرر کرنے کا خواب بن رہی ہے۔ اس خواب کی تعبیر اور پہلی بنیاد ہم اس سال(Salam Award for Urdu Imaginative Fiction ) سلام اوارڈ فار اردو ایمیجینیٹو فکشن سے رکھ رہے ہیں

شہناز اعجاز الدین پشاور میں پیدا ہوئیں۔ ان کی پرورش مکران اور چترال جیسے دور و دراز علاقوں میں ہوئی۔ تعلیم کراچی میں حاصل کی ابوظہبی میں دس سال مقیم رہیں اور اب لاہور میں زندگی گزار رہی ہیں۔ شہناز اعجازالدین دس سال تک لمز یونیورسٹی کے کیس یونٹ میں بحیثیت ایڈیڑ فائز رہیں۔ اس کے علاوہ وہ ایک کالم نگار رہی ہیں اور بھارت و پاکستان کے کئی جرائد و اخبارات کے لیے لکھ چکی ہیں۔ ان کے مضامین کا مجموعہ "Lost from View" سن 1994 میں شائع ہوا۔ اردو اور فارسی میں گہری دلچسپی کے باعث انہوں نے کئی برس تک داستان "طلسمِ ہوشربا" پر تحقیق کی اور بالآخر اس کے سات جلدوں پر مشتمل اردو متن کا انگریزی میں ایک جلد میں مختصر ترجمہ مرتب کیا جو 2009 میں Penguin Classics سے شائع ہوا۔ 2025 میں انکی کتاب تین شہزادیادں انگریزی زبان میں شائع ہوئی۔ یہ مشہور ناولسٹ اے-آر-خاتون کی تین کہانیوں کا ترجمہ ہے جس میں بر صغیر کی دیو مالا روائیت کو بہت خوبصورتی سے پیش کیا گیا ہے۔ ان کی دلچسپی مابعد الطبیعیات کے مضامین میں بھی رہی ہے — مثلاً علمِ کف، علمِ نجوم اور بالخصوص ٹیرو کارڈز، جن میں انہوں نے خاصی مہارت حاصل کی ہے۔ وہ تصوف کا مطالعہ بھی کر رہی ہیں اور لاہور میں ایک حلقۂ ذکر کا حصہ ہیں۔

عاصم بخشی کے ادبی تراجم میں چھ ناول اور متعدد کہانیاں شامل ہیں۔ ان کے ترجمہ کردہ اسامہ صدیق کے ناول "چاند کو گل کریں تو ہم جانیں" کو بہت پذیرائی حاصل ہوئی۔ غیرادبی تراجم کے مجموعے "نئی زمینوں کی تلاش" کو 2018 کا اردو سائنس ایوارڈ مل چکا ہے۔ ان کی کتاب "دبدھا" کو کراچی لٹریچر فیسٹول بہترین اردو کتاب کا ایوارڈ دیا گیا۔ شعری مجموعہ "شاہراہِ شوق" 2015 میں شائع ہوا۔ حالیہ شائع ہونے والے تراجم میں خورخے لوئیس بورخیس کی کہانیوں کا مجموعہ "بابل کا کتب خانہ" اور گیرٹ ہافمان کا ناول "اندھوں کی حکایت شامل" ہیں۔

اسماء مندراوالا ایک ویژول آرٹسٹ اور تھیئٹر پریکٹیشنر ہیں اور یونیورسٹی آف سسیکس سے ڈاکٹریٹ آف فلاسفی میں تعلیم یافتہ ہیں۔ ان کا بَین مضامین کام ویژول آرٹس، تھیئٹر اور پرفارمینس، اور تعلیم کو جوڑتا ہے۔ ان کا کریئٹو کام اور آرٹ کی تعلیم کی طرف ان کی تجویز ان کی ثقافت، عوامی حلقہ، اردو ادب اور اس کی پرفارمینس کی صفات کے جیسے مضامین میں دلچسپی سے متاثر کن ہے۔ وہ ۲۰۱۰ سے انڈس ویلی اسکول آف آرٹ اینڈ آرکیٹیکچر میں پڑھا رہی ہیں اور ان کے فائین آرٹس ڈیپارٹمنٹ سے منسلک ہیں۔ اسماء کی ویژول پریکٹس کئی پاکستانی اور بین الاقوامی نمائشوں میں پیش ہو چکی ہیں اور ان کی ریسرچ کئی بین الاقوامی جرنل اور کتابوں میں شائع ہو چکی ہے۔ اسماء زنبیل ڈرامیٹک ریڈنگز کی شریکِ بانی اور کریئٹو ڈاریکٹر ہیں اور پاکستان کے کئی ادبی میلوں میں کراچی، لاہور اور اسلام آباد، اور ملک سے باہر کئی دیگر فورمز میں پرفارم کر چکی ہیں۔ ان کی موجودہ پریکٹس میں وہ اردو ادب میں سے چنی گئی کہانیوں کو ڈرامائی انداز میں ایک لائیو مجموعے کے سامنے پیش کرتی ہیں، اور ادب اور پرفارمینس کے درمیان ایک گہری متحرک بندش کو نمایاں کرتی ہی۔ اس پریکٹس کا مقصد روائتی داستان گوئی اور معاصرہ وقت کے ریڈیو کھیل کا حوالہ دے کر، آواز اور آہنگ کے ساتھ کہانی کے بیانیوں کو اور تروتازہ کرنا ہے۔ اسماء نے حال ہی زنبیل ڈرامیٹک ریڈنگز کے ماہانہ اوڈیو چینل "زنبیلنامہ" کا بھی آغاز کیا ہے۔
شرکاء سے گزارش کے اپنی کہانی بھیجنے سے پہلے یہ تصدیق کر لیں کہ اُن کی فائیل صحیح طرح سے فارمیٹ کی گئی ہے۔ فارمیٹ کی پیروی نہ کرنے کی صورت میں آپ کی کہانی مسترد کی جا سکتی ہے۔