The Salam Award

Taqseer تقصیر

Shaiza Yamin

اس کی سانس پھول رہی تھی۔۔۔ بدن سے پھوٹتے پسینے نے اسے بھگو کر رکھ دیا تھا۔۔۔ ہر طرف پھیلے اندھیرے سے اس کی آنکھیں درد کر رہی تھیں۔۔۔ مسلسل بھاگنے سے اس کی ٹانگیں شل ہوگئی تھیں۔۔۔ ایک انجانا خوف اس کے حواس مختل کر رہا تھا۔۔۔ وہ اندھا دھند بھاگے چلا جا رہا تھا۔۔۔ یکدم اس کا پاؤں کسی پتھر سے ٹکرایا۔۔۔ اس کا واحد سہارا۔۔۔ زمین اس کے پیروں کے نیچے نہیں رہی۔۔۔ اس کے دل نے غوطہ کھایا۔۔۔ سانس کی لڑی نے مختصر سا وقفہ لیا۔۔۔ اور۔۔۔ وہ اٹھ بیٹھا۔۔۔

لمحہ بہ لمحہ بحال ہوتے حواس اسے یقین دلا رہے تھے کہ یہ ایک خواب تھا۔ وہ اپنے بستر پر تھا۔ پسینے سے بھیگا، تیز سانس اور اس سے نکلتی سیٹی کی سی آواز سخت مشقت اور اذیت کے گواہ تھے۔ اس نے آگے بڑھ کر بیڈ کے ساتھ رکھی سائڈ ٹیبل کی دراز کھولی۔ ایک خود کار انجکشن نما پستول اس کے سامنے تھی۔ اس کے ایک سرے پر سوئی اور ایک سرے پر ہینڈل تھا۔ اس نے سوئی کی نوک اپنی کنپٹی کے ذریعے اپنے سر میں پیوست کی اور ہینڈل پر موجود دو میں سے ایک بٹن دبا دیا۔ ہینڈل اور سوئی کے درمیان موجود شفاف کنٹینر میں ایک بے رنگ سیال مادہ اس میں جمع ہونے لگا۔ اس کے بعد اس نے سائڈ ٹیبل پر رکھی ایک شیشے کی پلیٹ میں سوئی رکھی۔ ہینڈل پر موجود دوسرا بٹن دبایا۔ بے رنگ سیال مادہ ٹھوس شکل میں جمع ہوتے ہوئے گیند کی سی شکل اختیار کر گیا۔

ارے! اس خواب کا تو کوئی رنگ ہی نہیں؟ اسی دوران باہر گلی سے ایک پاٹ دار آواز سنائی دی۔۔۔ “خواب لے لو۔۔۔” خواب دے دو۔ اوہ کباڑی آگیا۔ اس نے جلدی سے اٹھ کر انگلیوں سے بالوں کو درست کیا۔ پاؤں میں چپل کو اڑتا ہوا باہر کو لپکا۔ کباڑی کی ریڑھی پر ڈھیروں رنگ برنگے خواب ترتیب سے سجے تھے۔ اس نے اپنا بے رنگ خواب کباڑی کے سامنے رکھا۔

”یہ کیا ہے؟“ ”خواب ہے۔“ ”اس کے رنگ کہاں ہیں؟“ ”نہیں معلوم، اسے تم رکھ لو،“ اس نے کباڑی کو خواب پکڑاتے ہوئے کہا۔ ”میرے کس کام کا، میں نہیں لیتا یہ۔ خواب میں رنگ ہوگا، چمک ہوگی تو ہی خریدار لے گا ناں، ایسے بے رنگ خواب پر کون وقت اور پیسہ ضائع کرے گا؟“

کباڑی کی باتوں سے جھنجھلا کر اس نے سگریٹ سلگائی اور خاموشی سے خلا میں گھورنے لگا۔ اسے جلد از جلد اس خواب سے نجات حاصل کرنی تھی۔ وہ خاموش کھڑا خوابوں کی خرید و فروخت دیکھ رہا تھا۔ ”میں یہ خواب لوں گا،“ ساتھ کھڑے شخص کی آواز سن کر وہ چونک پڑا۔ اس نو وارد کی آنکھیں بے خوابی کے باعث اندر دھنسی ہوئی تھیں۔ آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے، بڑھی ہوئی داڑھی، ملگجے بال، بڑے کالر والا اوور کوٹ پہنے مدھم لہجے میں بولتا یہ شخص کباڑی اور اس کی بحث سن چکا تھا۔

”پانچ سو لوں گا،“ اس کا تقاضہ سن کر نو وارد مسکرایا۔ ”کباڑی کو تو مفت دے رہے تھے، اس کی نظر میں یہ بے قیمت تھا، مگر تمہاری نظر میں نہیں لگتا،“ اس نے بھاؤ تاؤ کے انداز میں کہا۔ نووارد نے جیب سے پانچ سو نکال کر اس کی جانب بڑھا دیئے۔ ”یہ بھی تو ہو سکتا ہے تمہیں اس کی اصل قدر کا اندازہ نہ ہو،“ نو وارد نے اپنی بات مکمل کی۔ پہلے شخص نے حیرت اور بے یقینی کے ملے جلے جذبات کے ساتھ نو وارد کی طرف دیکھا۔ وہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنا چاہتا تھا مگر خواب اس کے ہاتھ سے جا چکا تھا۔

عدالت کا رعب تمام حاضرین پر طاری تھا۔ کمرے کی دونوں جانب بنے کٹہروں میں پہلا اور دوسرا شخص کھڑے تھے۔ کمرے کے درمیان میں وہ خواب رکھا تھا جسے وہ اپنا کہتے تھے۔ دونوں جانب کے وکلا جب اپنے دلائل مکمل کر چکے تو گواہان کے کٹہرے میں کھڑے پہلے شخص نے فیصلے سے پہلے استدعا میں کہا: ”میں بس یہ چاہتا ہوں کہ مجھے میرا خواب واپس دیا جائے۔۔۔ مجھ سے یہ خواب دھوکا دہی سے لیا گیا ہے۔“ اس کی آنکھوں میں بے خوابی کے سائے منڈلا رہے تھے۔ ہلکی بڑھی ہوئی شیو، بکھرے ہوئے بال، اس کی شخصیت بے ترتیبی اور پریشانی کا شکار تھی۔

”میں نے اس خواب کی قیمت ادا کی ہے۔ یہ میرا خواب ہے، اس میں موجود یہ رنگ میرے ہیں، میں اپنا خواب کسی صورت واپس نہیں کروں گا،“ دوسرے شخص نے کمرے کے بیچ میں موجود خواب کی جانب اشارہ کرکے کہا۔ اس کے چہرے پر رونق، آواز میں گونج تھی۔ وہ بہت خود اعتمادی کے ساتھ کٹہرے میں کھڑا تھا۔ اپنے خواب کے دفاع کا عزم اس کے چہرے پر نمایاں تھا۔ کمرے کے وسط میں موجود خواب کے دھنک رنگ عدالت کے منظر پر چھائے ہوئے تھے۔ اس کی چمک ہر آنکھ کو خیرہ کر رہی تھی۔ جج نے فیصلہ محفوظ کر لیا اور اگلی پیشی پر فیصلہ سنانے کا اعلان کر کے عدالت برخواست کر دی۔

یہ چھ بائی چھ کا مختصر کمرہ تھا۔ کمرے میں ایک میز کرسی اور فائلوں سے بھری الماری رکھی تھی۔ میز پر فائلوں کا انبار، ایک کافی مگ اور لیمپ اپنی پیلی روشنی کے ساتھ موجود تھا۔ میز کی ایک جانب ریوالونگ چیئر پر بیٹھے مسٹر ایکس پائپ سے دھواں اڑاتے گہری سوچ میں گم میز کی دوسری جانب بیٹھے شخص کی بات سن رہے تھے۔ جس کے خاکی ٹرینچ کوٹ اور سیاہ فلیٹ ہیٹ کے درمیان چھوٹی چھوٹی آنکھیں اپنی چمک کی وجہ سے نمایاں ہو رہی تھیں۔

”جج نے فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔“ ”ہم م۔۔ اگلی پیشی کب ہے؟“ مسٹر ایکس نے منہ سے دھواں نکالتے ہوئے پوچھا۔ ”سر اگلے ہفتے۔۔ چھ دن بعد۔ سر وہ خواب انرجی کا خزانہ ہے، میری تجویز یہی ہے، فوری ضبطگی!“ ”بالکل ٹھیک! تم ابھی جاؤ اور ان دونوں آدمیوں کو گرفتار کر لو، اور سکیورٹی ادارے کو اطلاع دے کر خواب کو اپنی تحویل میں لے لو،“ مسٹر ایکس نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا۔ ”خواب۔۔۔ خوابوں کی بھٹی میں جائے گا، اتنی طاقت فرد واحد کے پاس ناممکن!“

کال کوٹھری کا دروازہ کھلتا ہے اور اندر اکڑوں بیٹھا شخص سیدھا کھڑا ہو جاتا ہے۔ اس کے چہرے پر ضد، غصہ، ہٹ دھرمی واضح تھی۔ انہیں جذبات کا اظہار اس کے جملے کر رہے تھے۔ ”دیکھو تمہاری وجہ سے کیا ہو گیا،“ وہ غصے میں مٹھیاں بھینچ کر پھر سے اکڑوں بیٹھ گیا۔ ”غلطی صرف اور صرف تمہاری ہے،“ بعد میں آنے والے نے مضبوط لہجے میں کہا۔ ”تمہیں مجھے اس خواب کی اصل قدر کا بتانا چاہیے تھا، تم دھوکے باز ہو،“ پہلے شخص نے اپنے کندھوں سے الزام جھاڑتے ہوئے کہا۔ ”وہ میرا خواب تھا،“ دوسرے شخص نے اپنا حق جتاتے ہوئے کہا۔ ”تمہارے پاس وہ بے رنگ تھا، اسے رنگ اور چمک میں نے دی، وہ میرا۔۔۔ خیر نہ اب وہ میرا رہا نہ تمہارا۔ ختم سب۔“ پہلے شخص نے اکڑوں بیٹھے اپنا سر دونوں ہاتھوں سے پکڑ لیا اور نووارد اپنی جگہ کھڑا رہ گیا۔

خوابوں کی بھٹی بھر پور انداز میں دہک رہی تھی۔ ہر تیس سیکنڈ کے بعد اس میں داخل ہوتا خواب اپنی انرجی خارج کرتا۔ بھٹی کی فضا دھماکے سے گونجتی اور خود سے جوڑے انرجی محفوظ کرنے کے پلانٹ تک اسے منتقل کر کے اگلے خواب کو اندر داخل کرتی۔ فضا میں جلنے کی مہک، ماحول میں دھوئیں کی نامحسوس آمیزش، مشینوں کی آوازیں، سوئی کی ٹک ٹک، اور خودکار ریل پر دیگر خوابوں کے بیچ اپنی باری کا منتظر وہ خواب!! بھٹی کا منہ کھلتا، خواب نکلتا اور بند ہو جاتا۔ اس بار بھی بھٹی کا منہ کھلا۔ خواب اندر گیا۔ بھٹی نے خواب نگلتے ہی اپنا دروازہ بند کر لیا۔ دھماکہ۔۔۔ زور دار دھماکہ۔۔۔ سائرن کی آواز۔۔۔ ایمبولینس کے سائرن۔۔۔ پانی کا چھڑکاؤ۔۔۔ سب خاکستر۔۔۔ وہ بھٹی اب راکھ کا ڈھیر تھی۔

کال کوٹھری کا دروازہ کھلتا ہے۔ پہلا شخص ہاتھوں میں ہتھکڑی پہنے باہر آتا ہے۔ کندھے جھکے، بوجھل چال، اعصاب شکستہ، چہرے کے عضلات کھنچے ہوئے، وحشت زدہ، زندہ رہنے کی خواہش سے عاری وہ کسی پاگل خانے کا مکین معلوم ہوتا تھا۔ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا وہ کسی مشینی انداز میں چلا جا رہا تھا، خواہش سے عاری مگر عادت سے مجبور۔ اس کی پیروی میں پیچھے چلتا دوسرا شخص اسی کا عکس محسوس ہوتا تھا۔ اسی کی طرح شکستگی کا شکار۔ جینے کی آرزو ناپید۔ جھکے کندھے۔ وہ پہلے شخص کی ہی پرچھائی معلوم ہوتا تھا۔ منظر میں گھل مل گیا تھا۔ مگر اس کے چہرے پر ایک مبہم سا اطمینان تھا۔ لمحہ بھر کے لیے اس کے چہرے پر ایک پر اسرار مسکراہٹ ابھرتی جسے وہ سر جھکا کر سب کی نظروں سے چھپا لیتا تھا۔

(ن م راشد کی نظم اندھا کباڑی سے ماخوذ)